(۳۲۰۹۹) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : لاَ یَرِثُ الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ ، وَلاَ الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ ، وَلاَ عَہْدِ عُمَرَ ، فَلَمَّا وُلِّیَ مُعَاوِیَۃُ وَرَّثَ الْمُسْلِمَ مِنَ الْکَافِرِ ، وَلَمْ یُوَرِّثَ الْکَافِرَ مِنَ الْمُسْلِمِ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِذَلِکَ الْخُلَفَائُ حَتَّی قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَرَاجَعَ السُّنَّۃَ الأُولَی ، ثُمَّ أَخَذَ بِذَلِکَ یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ ، فَلَمَّا قَامَ ہِشَام بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ أَخَذَ بِسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ۔ (مسلم ۱۲۳۳)
(٣٢٠٩٩) زہری فرماتے ہیں کہ مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں وارث ہوتا تھا، اور نہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے زمانے میں، پس جب حضرت معاویہ (رض) حاکم ہوئے تو انھوں نے مسلمان کو کافر کا وارث بنایا اور کافر کو مسلمان کا وارث نہیں بنایا، راوی کہتے ہیں کہ پھر خلفاء نے اسی بات کو اپنا لیا، یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) حاکم ہوئے تو انھوں نے پہلی سنت کو نافذ کیا، پھر یہی بات یزید بن عبد الملک نے اپنائی اور جب ہشام بن عبد الملک حاکم ہوا تو اس نے خلفاء کے طریقے کو اپنا لیا۔