(۳۲۱۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : إذَا کَانَا أَخَوَیْنِ فَادَّعَی أَحَدُہُمَا أَخًا وَأَنْکَرَہُ الآخَرُ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ أَبِی لَیْلَی یَقُولُ: ہِیَ مِنْ سِتَّۃٍ : لِلَّذِی لَمْ یَدَّعِ ثَلاَثَۃٌ ، وَلِلْمُدَّعِی سَہْمَانِ ، وَلِلْمُدَّعَی سَہْمٌ۔
قَالَ: وَقَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ : ہِیَ مِنْ أَرْبَعَۃٍ : لِلَّذِی لَمْ یَدَّعِ سَہْمَانِ ، وَلِلْمُدَّعِی سَہْمٌ ، وَلِلْمُدَّعَی سَہْمٌ۔
(٣٢١٥٢) وکیع فرماتے ہیں کہ جب دو بھائی وارث ہوں اور ان میں سے ایک کسی آدمی کے بھائی ہونے کا اقرار کرلے اور دوسرا اس کا انکار کر دے ، اس کے بارے میں حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے تھے کہ یہ مسئلہ چھ حصّوں سے نکلے گا، جس آدمی نے نسب کا اقرار نہیں کیا اس کے لیے تین حصّے ہیں اور اس کا دعویٰ کرنے کے لیے دو حصّے ہیں اور جس کے لیے دعویٰ کیا گیا ہے ایک حصّہ ہے۔
کہتے ہیں کہ ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ چار حصّوں سے نکلے گا جس نے دعویٰ نہیں کیا اس کے لیے دو حصّے اور دعویٰ کرنے والے کے لیے ایک حصّہ اور جس کے لیے دعویٰ کیا گیا ہے اس کے لیے ایک حصّہ۔