(۳۲۲۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: کَانَ فِینَا رَجُلٌ نَازِلٌ أَقْبَلَ مِنَ الدَّیْلَمِ ، فَمَاتَ وَتَرَکَ ثَلاَثُ مِئَۃ دِرْہَمٍ ، فَأَتَیْت ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْتُہُ ؟ فَقَالَ : ہَلْ لَہُ مِنْ رَحِمٍ؟ أَوْ ہَلْ لأَحَدٍ مِنْکُمْ عَلَیْہِ عَقْدُ وَلاَئٍ؟ قُلْنَا: لاَ ، قَالَ: فَہَاہُنَا وَرِثَہُ کَثِیرٌ۔ یَعْنِی : بَیْتَ الْمَالِ۔
(٣٢٢٣٥) مسروق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ہمارے پاس دیلم سے آکر ٹھہرا ہوا تھا ، وہ مرگیا اور اس نے تین سو درہم چھوڑے میں حضرت ابن مسعود کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ کیا اس کا کوئی رشتہ دار ہے ؟ کیا تم میں سے اس کے ساتھ کسی کی موالاۃ ہے ؟ ہم نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا کہ پھر یہاں بہت سے ورثہ ہیں، یعنی بیت المال میں۔