(۳۲۲۸۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، سَمِعْت عَامِرًا یَقُولُ ، فِی امْرَأَۃٍ تُوُفِّیَتْ وَلَہَا ثَلاَثَۃُ بَنِینَ ذُکُورٍ ، وَابْنَتَانِ ، إحْدَاہُمَا غَائِبَۃٌ بِالشَّامِ ، وَالأُخْرَی عِنْدَہَا ، فَزَعَمَتْ أَنَّ لَہَا عِنْدَ ابْنَتِہَا الَّتِی بِالشَّامِ مَالاً ، وَأَنَّہَا قَالَتْ لِبَنِیہَا : أُحِبُّ أَنْ تَطْلُبُوا لَہَا الْمَالَ الَّذِی عِنْدَہَا بِمَا یُصِیبُہَا مِنْ مِیرَاثِی ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، قَالَتْ : وَأُحِبُّ أَنْ تَجْعَلُوا مَا یُصِیبُہَا مِنْ مِیرَاثِی لأُخْتِہَا ، فَیصِیبُہَا کَماَ یُصِیب رَجُلٍ مِنْکُمْ ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، ثُمَّ إنَّ ابْنَتَہَا جَائَتْ بَعْدَ مَا اقْتَسَمُوا الْمِیرَاثَ فَطَلَبَتْ مَا یُصِیبُہَا مِنْ مِیرَاثِہَا ، قَالَتْ : لَمْ یَکُنْ لَہَا عِنْدِی مَالٌ إبْرَاہِیمُ ؟ فَقَالَ : یُؤْخَذُ مِنْ کُلِّ إنْسَانٍ مِنْہُمْ بِالسَّوِیَّۃِ فَیُرَدُّ عَلَیْہَا ، وَقَالَ عَامِرٌ : یُؤْخَذُ أَحَدُ السَّہْمَیْنِ اللَّذَیْنِ أَصَابَتِ الْجَارِیَۃُ ، فَیُرَدُّ عَلَی أُخْتِہَا ، فَیُصِیبُ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا سَہْمٌ ، وَلِکُلِّ رَجُلٍ سَہْمَانِ۔
(٣٢٢٨٣) زکریا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر کو اس عورت کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا جو فوت ہوئی تو اس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، اور ایک شام میں غائب تھی اور دوسری اس کے پاس تھی، اس کا گمان تھا کہ اس کے پاس اس شام میں غائب ہونے والی بیٹی کے لیے مال ہے، اور اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ تم اس کے لیے مال تلاش کرو جو اس کے پاس ہے، اس کے عوض جو اس کو میراث میں ملے گا، انھوں نے کہا جی ہاں ! اور اس نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ اس کی میراث اس کی بہن کو دے دوں، اس طرح اس کو اتنا مال مل جائے جتنا ایک مرد کو ملتا ہے، انھوں نے کہا ٹھیک ہے ، پھر اس کی بیٹی میراث کی تقسیم کے بعد آئی، اور اس نے اپنے حصّے کی میراث کا مطالبہ کیا، اس نے کہا کہ اس کے لیے میرے پاس مال نہیں، تو ابراہیم نے فرمایا کہ ہر شخص سے برابر حصّہ لے کر اس کو دیا جائے گا، اور حضرت عامر نے فرمایا کہ دو حصّے جو لڑکی نے لیے ان میں سے ایک حصّہ لیا جائے گا اور اس کی بہن کو واپس دیا جائے گا، اس طرح ہر ایک کو ایک ایک حصّہ اور ہر مرد کو دو حصّے ملیں گے۔