حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمن ، حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃ ، قَالَ :
(۳۲۲۹۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِیعَۃَ : أَنَّ أُنَاسًا مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّا نَسْمَعُ مِنْ قَوْمِکَ حَتَّی یَقُولَ الْقَائِلُ مِنْہُمْ : إنَّمَا مَثَلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلُ نَخْلَۃٍ أَنْبَتَتْ فِی کَبَائٍ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، مَنْ أَنَا ؟ قَالُوا : أَنْتَ رَسُولُ اللہِ عَلَیْکَ السَلام ، فَقَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : فَمَا سَمِعْنَاہُ انْتَمَی قَبْلَہَا قَطُّ ، ثُمَّ قَالَ : أَلاَ إنَّ اللَّہَ خَلَقَ خَلْقَہُ ، ثُمَّ فَرَّقَہُمْ فِرْقَتَیْنِ ، فَجَعَلَنِی مِنْ خَیْرِ الْفَرِقَیْنِ ، ثُمَّ جَعَلَہُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِی مِنْ خَیْرِہِمْ قَبِیلَۃً ، فَأَنَا خَیْرُکُمْ بَیْتًا وَخَیْرُکُمْ نَفْسًا۔
(ترمذی ۳۵۳۲۔ احمد ۱۶۶)
(٣٢٢٩٦) عبد المطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ ہم آپ کی قوم سے سنتے ہیں اور کہنے والے کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثال تو اس درخت کی سی ہے جو کسی میدان میں اگ جائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو ! میں کون ہوں ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ پر سلام ہو، آپ نے فرمایا : میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں، کہتے ہیں کہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے پہلے اس نسبت کو بیان کرتے نہیں سنا، پھر فرمایا خبردار ! بیشک اللہ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا اور ان کو دو جماعتوں میں تقسیم فرما دیا پھر مجھے بہترین جماعت میں کردیا، پھر ان کے قبیلے بنائے اور مجھے بہترین قبیلے میں بنایا، پس میں گھر کے اعتبار سے بھی تم سب سے بہتر ہوں اور نفس کے اعتبار سے بھی تم سے بہتر ہوں۔