(۳۲۳۱۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : بَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَظْہُرِنَا إذْ أَغْفَی إغْفَائَۃً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا : مَا لَکَ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : نَزَلَتْ عَلَیَّ آنِفًا سُورَۃٌ ، فَقَرَأَ بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم : {إنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إنَّ شَانِئَک ہُوَ الأَبْتَرُ} ثُمَّ قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا الْکَوْثَرُ ؟ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّہُ نَہْرٌ وَعَدَنِیہِ رَبِّی ، عَلَیْہِ خَیْرٌ کَثِیرٌ، ہُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أُمَّتِی ، آنِیَتُہُ عَدَدُ النُّجُومِ ، فَیُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْہُمْ فَأَقُولُ : رَبِّ إِنَّہُ مِنْ أَصْحَابِی ، فَیَقُولُ : لاَ ، إنَّک لاَ تَدْرِی مَا أَحْدَثَ بَعْدَک۔ (مسلم ۵۳۔ احمد ۱۰۲)
(٣٢٣١٢) حضرت انس فرماتے ہیں اس دوران کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان بیٹھے تھے کہ آپ کو ایک اونگھ آئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ 5! آپ کو کیا ہوا َ ؟ فرمایا کہ ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا {إنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إنَّ شَانِئَک ہُوَ الأَبْتَرُ } پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا کہ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر بہت سی خیر ہے، اور وہ حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں، پس ایک بندہ اس سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ اے میرے رب ! بیشک یہ میرے ساتھیوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، نہیں تم نہیں جانتے کہ اس نے تمہارے بعد کیا بدعت جاری کی ہے۔