(۳۲۳۷۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ ذَیَّالِ بْنِ حَرْمَلَۃَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ ، حَتَّی إذَا دُفِعْنَا إلَی حَائِطٍ مِنْ حِیطَانِ بَنِی النَّجَّارِ إذَا فِیہِ جَمَلٌ قَطِمٌ - یَعْنِی : ہَائِجًا - لاَ یَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إلاَّ شَدَّ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَجَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی الْحَائِطَ فَدَعَا الْبَعِیرَ فَجَائَ وَاضِعًا مِشْفَرَہُ فِی الأَرْضِ حَتَّی بَرَکَ بَیْنَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَاتُوا خِطَامًا ، فَخَطَمَہُ وَدَفَعَہُ إلَی أَصْحَابِہِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إلَی النَّاسِ ، فَقَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ شَیْئٌ بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ إلاَّ وَیَعْلَمُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ غَیْرَ عَاصِی الْجِنِّ وَالإِنْسِ۔ (احمد ۳۱۰۔ دارمی ۱۸)
(٣٢٣٧٧) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر سے واپس آئے، یہاں تک کہ جب بنو نجار کے باغ تک پہنچے تو اس میں ایک وحشی اونٹ تھا، جو بھی اس باغ میں داخل ہوتا اس پر حملہ کردیتا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور اونٹ کو بلایا، وہ زمین میں اپنا جبڑا گھسیٹتا ہوا آیا اور اس نے آپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نکیل لاؤ، آپ نے اس کو نکیل ڈالی اور اس کے مالکوں کے حوالے کردیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ آسمان و زمین کے درمیان کوئی بھی ایسا نہیں جو یہ نہ جانتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، سوائے نافرمان انسانوں اور جنوں کے۔