(۳۲۳۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَائَ جِبْرِیلُ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ جَالِسٌ حَزِینٌ قَدْ ضَرَبَہُ بَعْضُ أَہْلِ مَکَّۃَ ، قَالَ : فَقَالَ : مَا لَک ؟ قَالَ : فَعَلَ بِی ہَؤُلاَئِ وَہَؤُلاَئِ ، قَالَ : أَتُحِبُّ أَنْ أُرِیَک آیَۃً ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَنَظَرَ إلَی شَجَرَۃٍ مِنْ وَرَائِ الْوَادِی ، فَقَالَ : اُدْعُ تِلْکَ الشَّجَرَۃَ ، فَدَعَاہَا فَجَائَتْ تَمْشِی حَتَّی قَامَتْ بَیْنَ یَدَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ لَہَا : ارْجِعِی ، فَرَجَعَتْ حَتَّی عَادَتْ إِلَی مَکَانِہَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : حَسْبِی حَسْبِی۔ (احمد ۱۱۳۔ دارمی ۲۳)
(٣٢٣٩٠) ابو سفیان روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ جبرائیل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جبکہ آپ غم گین بیٹھے تھے، آپ کو بعض اہل مکہ نے مارا تھا، انھوں نے کہا آپ کو کیا ہوا ؟ آپ نے فرمایا کہ ان ان لوگوں نے میرے ساتھ برا سلوک کیا ہے، انھوں نے عرض کیا کیا آپ یہ بات پسند کرتے ہیں کہ میں آپ کو نشانی دکھاؤں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ہاں۔ پس انھوں نے وادی کے پیچھے دیکھا اور کہا کہ اس درخت کو بلائیں، آپ نے اس کو بلایا تو وہ چلتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا، پھر کہا کہ واپس چلے جاؤ تو وہ واپس چلا گیا اور اپنی جگہ لوٹ گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے۔