(۳۲۳۹۸) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حدَّثَنَا زُہَیْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ یَزِیدُ الأَسَدِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَوْنُ بْنُ أَبِی جُحَیْفَۃَ السُّوَائِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی عَقِیلٍ ، قَالَ : انْطَلَقْنَا فِی وَفْدٍ فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنَّا : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلاَ سَأَلْت رَبَّک مُلْکًا کَمُلْکِ سُلَیْمَانَ ، فَضَحِکَ وَقَالَ : لَعَلَّ لِصَاحِبِکُمْ عِنْدَ اللہِ أَفْضَلَ مِنْ مُلْکِ سُلَیْمَانَ ، إنَّ اللَّہَ لَمْ یَبْعَثْ نَبِیًّا إلاَّ أَعْطَاہُ دَعْوَۃً ، فَمِنْہُمْ مَنِ اتَّخَذَ بِہَا دُنْیَا فَأُعْطِیَہَا ، وَمِنْہُمْ مَنْ دَعَا بِہَا عَلَی قَوْمِہِ إذْ عَصَوْہُ فَأُہْلِکُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ أَعْطَانِی دَعْوَۃً فَاخْتَبَأْتُہَا عِنْدَ رَبِّی شَفَاعَۃً لأُمَّتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
(٣٢٣٩٨) عبد الرحمن بن ابی عقیل فرماتے ہیں کہ ہم ایک وفد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، ہم میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اپنے رب سے سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت جیسی سلطنت کا سوال نہیں کیا ؟ آپ ہنسے اور فرمایا شاید تمہارا ساتھی اللہ کے ہاں سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت سے افضل ہو، بیشک اللہ نے جس نبی کو مبعوث فرمایا اس کو ایک دعا عطا فرمائی، بعض نے دنیا کو اختیار کیا تو اللہ نے ان کو عطا فرما دی، اور بعض نے اپنی قوم کی نافرنی کے وقت اس کو اپنی قوم کی بد دعا میں استعمال کیا، چنانچہ وہ ہلاک کردیے گئے، اور اللہ نے مجھے دعا عطا فرمائی تو میں نے اس کو اپنے رب کے ہاں اپنی امت کی شفاعت کے لیے ذخیرہ کرلیا۔