(۳۲۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی سَمِعَہُ مِنْہُ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ سَائِلاً أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ عَنْ مَوَاقِیتِ الصَّلاَۃِ فَلَمْ یَرُدَّ شَیْئًا ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ حِینَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّی ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَالْقَائِلُ یَقُولُ : قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ ، أَوْ لَمْ تَزُلْ ، وَہُوَ کَانَ أَعْلَمَ مِنْہُمْ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، وَأَمَرَہُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِینَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ، وَأَمَرَہُ فَأَقَامَ الْعِشَائَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ، ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ وَالْقَائِلُ یَقُولُ : قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، أَوْ لَمْ تَطْلُعْ ، وَہُوَ کَانَ أَعْلَمَ مِنْہُمْ ، وَصَلَّی الظُّہْرَ قَرِیبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ ، وَصَلَّی الْعَصْرَ وَالْقَائِلُ یَقُولُ : قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ، وَصَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ یَغِیبَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّی الْعِشَائَ ثُلُثَ اللَّیْلِ الأَوَّلَ ، ثُمَّ قَالَ : أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَقْتِ ؟ مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ وَقْتٌ۔ (مسلم ۱۷۸۔ ابوداؤد ۳۹۸)
(٣٢٤٠) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے اسے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن حضرت بلال کو حکم دیا تو انھوں نے اس وقت اقامت کہی جب فجر طلوع ہوگئی تھی۔ آپ نے اس وقت نما زپڑھائی۔ پھر انھوں نے اس وقت اقامت کہی جب کہنے والا کہتا تھا کہ سورج زائل ہوا ہی ہے یا ہونے والا ہے حالانکہ وہ کہنے والا سب سے زیادہ اوقات کو جانتا ہے۔ پھر عصر کی نماز کے لیے اقامت کا اس وقت کہا جب کہ سورج ابھی بلند تھا۔ پھر مغرب کی نماز کے لیے اقامت کا اس وقت کہا جب کہ سورج غروب ہوگیا تھا۔ پھر عشاء کی نماز کے لیے اقامت کا اس وقت کہا جبکہ شفق غائب ہوگیا۔ پھر آپ نے اگلے دن فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ کہنے والا کہتا تھا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے یا نہیں ہوا۔ جبکہ وہ قائل سب سے زیادہ مواقیت کو جانتا تھا۔ پھر آپ نے ظہر کی نماز گزشتہ عصر کی نماز کے وقت کے قریب پڑھائی۔ اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہنے والا کہتا تھا کہ سورج سرخ ہوگیا ہے۔ پھر مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی اور عشاء کی نماز رات کے پہلے تہائی حصے کے گذرنے پر پڑھائی۔ پھر فرمایا نمازوں کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ جو وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے وہ نماز کا وقت ہے۔