(۳۲۴۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَۃَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : یُجْمَعُ النَّاسُ فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ یَنْفُذُہُمُ الْبَصَرُ وَیُسْمِعُہُمُ الدَّاعِی فَیُنَادِی مُنَادٍ : یَا مُحَمَّدُ ، عَلَی رُؤُوسِ الأَوَّلِینَ وَالآخِرِینَ ، فَیَقُولُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ ، وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْک ، الْمَہْدِیُّ مَنْ ہَدَیْت ، تَبَارَکْت وَتَعَالَیْت ، وَمِنْک وَإِلَیْک ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا إلاَّ إلَیْک ، سُبْحَانَک رَبَّ الْبَیْتِ ، تَبَارَکْت رَبَّنَا وَتَعَالَیْت ، قَالَ حُذَیْفَۃُ : فَذَلِکَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ۔ (نسائی ۱۱۲۹۴۔ طیالسی ۴۱۴)
(٣٢٤٠٢) صلہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جائے گا، ان کی نظر تیز ہوگی، اور ان کو پکارنے والے کی پکار سنائی دے گی، چنانچہ ایک پکارنے والا پکارے گا اولین و آخرین کے سامنے، کہ اے محمد ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمائیں گے لبیک وسعدیک ، تمام بھلائیاں آپ کے ہاتھ میں ہیں، ہدایت یافتہ وہ ہے جس کو آپ ہدایت عطا فرمائیں، آپ برکت اور بلندی والے ہیں، اور آپ ہی کی طرف سے ملتا ہے اور آپ ہی کی طرف پہنچتا ہے، آپ سے پناہ اور نجات کی جگہ نہیں مگر آپ کی طرف، آپ پاک ہیں، بیت اللہ کے مالک ہیں، اے ہمارے رب آپ بابرکت اور بلند ہیں، حذیفہ فرماتے ہیں کہ یہی مقام محمود ہے۔