(۳۲۴۱۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَہُ ، عَنْ أُمِّ مَالِکٍ الأَنْصَارِیَّۃِ ، قَالَ : جَائَتْ أُمُّ مَالِکٍ بِعُکَّۃِ سَمْنٍ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِلاَلاً فَعَصَرَہَا ، ثُمَّ دَفَعَہَا إلَیْہَا فَرَجَعَتْ فَإِذَا ہِیَ مَمْلُوئَۃٌ ، فَأَتَتِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : أَنَزَلَ فِی شَیْئٌ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاکَ یَا أُمَّ مَالِکٍ ، قَالَتْ : رَدَدْت عَلَیَّ ہَدِیَّتِی ، قَالَ : فَدَعَا بِلاَلاً فَسَأَلَہُ عَنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ : وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِ ، لَقَدْ عَصَرْتُہَا حَتَّی اسْتَحْیَیْت ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَنِیئًا لَک یَا أُمَّ مَالِکَ ، ہَذِہِ بَرَکَۃٌ عَجَّلَ اللَّہُ لَکِ ثَوَابَہَا ، ثُمَّ عَلَّمَہَا أَنْ تَقُولَ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ سُبْحَانَ اللہِ عَشْرًا وَالْحَمْدُ لِلَّہِ عَشْرًا وَاللَّہُ أَکْبَرُ عَشْرًا۔ (احمد ۳۴۰۔ طبرانی ۳۵۱)
(٣٢٤١٩) یحییٰ بن جعدہ ایک آدمی کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام مالک انصاریہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گھی کی ایک مشک لائیں، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال کو اس کے نچوڑنے کا حکم دیا اور پھر ان کو مشک واپس کردی، وہ لوٹیں تو دیکھا کہ وہ مشک بھری ہوئی ہے، چنانچہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور کہا یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا اے ام مالک ! کیا ہوا ؟ کہنے لگیں کہ آپ نے میرا ہدیہ واپس کردیا، آپ نے حضرت بلال کو بلایا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں نے اس کو اتنا نچوڑا کہ مجھے شرم آنے لگی، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے امّ مالک ! تمہیں مبارک ہو یہ برکت ہے جس کا ثواب اللہ نے تمہیں جلد عطا کیا ہے، پھر آپ نے ان کو ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہنے کی تعلیم فرمائی۔