(۳۲۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی الْہَجِیرَ الَّتِی تَدْعُونَہَا الأَولَی حِین تَدْحُضُ الشَّمْسُ ، وَیُصَلِّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ یَرْجِعُ أَحَدُنَا إلَی رَحْلِہِ فِی أَقْصَی الْمَدِینَۃِ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ ، قَالَ : وَنَسِیت مَا قَالَ فِی الْمَغْرِبِ ، قَالَ : وَکَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ یُؤَخِّرَ مِنَ الْعِشَائِ الَّتِی تَدْعُونَہَا الْعَتَمَۃَ ، وَکَانَ یَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ حِینَ یَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِیسَہُ ، وَکَانَ یَقْرَأُ بِالسِّتِّینَ إلَی الْمِئَۃِ۔ (مسلم ۲۳۷۔ ابوداؤد ۴۰۱)
(٣٢٤٢) حضرت ابو برزہ کہتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج درمیانِ آسمان سے مغرب کی طرف زائل ہوجاتا تھا۔ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جب ہم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے بعد اپنی سواری پر مدینہ کے کنارے سے چکر لگا کر واپس آجاتا اور سورج ابھی روشنی برسارہا ہوتا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے مغرب کا جو وقت بیان کیا وہ میں بھول گیا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ عشاء کی نماز کو قدرے تاخیر سے پڑھیں۔ فجر کی نماز سے اس وقت فارغ ہوتے جب اتنی روشنی ہوجاتی کہ آدمی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچاننے لگتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے۔