(۳۲۴۳۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، جِئْت مِنْ عِنْدِ حَیٍّ مَا یَتَرَوَّحُ لَہُمْ رَاعٍ ، وَلاَ یَخْطِرُ لَہُمْ فَحْلٌ فَادْعُ اللَّہَ لَنَا ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اسْقِ بِلاَدَک وَبَہَائِمَک وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا فَقَالَ : اللَّہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُغِیثًا ، مَرِیئًا مَرِیعًا ، طَیِّبًا غَدَقًا ، عَاجِلاً غَیْرَ رَائِثٍ ، نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ ، قَالَ : فَمَا نَزَلَ حَتَّی مَا جَائَ أَحَدٌ مِنْ وَجْہٍ مِنَ الْوُجُوہِ إلاَّ قَالَ : مُطِرْنَا وَأُحْیِینَا۔ (ابوداؤد ۱۲۰۰۔ ابن ماجہ ۱۲۷۰)
(٣٢٤٣١) حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں ایسے قبیلے سے آیا ہوں جن کا چرواہا آرام نہیں پاتا اور ان کے نر جانور اپنی دم نہیں ہلاتے، آپ ہمارے لیے دعا کریں، آپ نے فرمایا اے اللہ ! اپنے شہروں اور جانوروں کو پانی سے سیراب کیجیے اور اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے، پھر آپ نے دعا کی ” اے اللہ ! ہمیں خوب برسنے والی ، سبزے والی، پاکیزگی والی اور موٹے قطروں والی جلدی آنے والی، نفع پہنچانے والی نہ کہ نقصان پہنچانے والی بارش عطا فرما۔ “ چنانچہ اتنی بارش برسی کہ جس طرف سے بھی کوئی آدمی آتا وہ کہتا کہ ہمارے علاقے میں بارش ہوئی اور زمین زندہ ہوگئی۔