(۳۲۴۵) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی خَارِجَۃُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ بَشِیر بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : دَخَلْت أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ ، أَوْ رَجُلٌ مِنْ آلِ عَلِیٍّ ، عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ فَقُلْنَا لَہُ : حَدِّثْنَا کَیْفَ کَانَتِ الصَّلاَۃُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّہْرَ حِینَ کَانَ الظِّلُّ مِثْلَ الشِّرَاکِ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْعَصْرَ حِینَ کَانَ الظِّلُّ مِثْلَہُ وَمِثْلَ الشِّرَاکِ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْمَغْرِبَ حِینَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْفَجْرَ حِینَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا مِنَ الْغَدِ الظُّہْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ قَدْرَ مَا یَسِیرُ الرَّاکِبُ إلَی ذِی الْحُلَیْفَۃِ الْعَنَقِ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْمَغْرِبَ حِینَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْعِشَائَ حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ۔ فَقُلْنَا لَہُ : کَیْفَ نُصَلِّی مَعَ الْحَجَّاجِ وَہُوَ یُؤَخِّرُ ؟ فَقَالَ : مَا صَلَّی لِلْوَقْتِ فَصَلُّوا مَعَہُ ، فَإِذَا أَخَّرَ فَصَلُّوہَا لِوَقْتِہَا ، وَاجْعَلُوہَا مَعَہُ نَافِلَۃً ، وَحَدِیثِی ہَذَا عِنْدَکُمْ أَمَانَۃٌ فَإِذَا مِتُّ ، فَإِنِ اسْتَطَاعَ الْحَجَّاجُ أَنْ یَنْبُشَنِی فَلْیَنْبُشْنِی۔ (نسائی ۵۲۴)
(٣٢٤٥) حضرت بشیر بن سلمان کہتے ہیں کہ میں اور محمد بن علی حضرت جابر بن عبداللہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ نماز سکھا دیجئے۔ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت ظہر کی نماز پڑھی جب ہر چیز کا سایہ تسمے کے برابر ہوگیا۔ پھر ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا۔ پھر ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غائب ہوگیا۔ پھر ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب فجر طلوع ہوگئی۔ پھر اگلے دن ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر ہمیں عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا۔ یہ نماز آپ نے ہمیں اتنی دیر پہلے پڑھائی جس میں ایک سوار مغرب کی نماز تک تیز رفتار کے ساتھ مقام ذو الحلیفہ تک پہنچ جائے۔ پھر آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا۔ پھر ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر گیا۔ پھر ہمیں روشنی میں فجر کی نماز پڑھائی۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ ہم حجاج بن یوسف کے ساتھ کیسے نماز پڑھیں حالانکہ وہ تاخیر سے نماز پڑھتا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ جو نماز وہ وقت پر پڑھے اس کے ساتھ پڑھ لو اور جو نماز وہ دیر سے پڑھے، اسے تم وقت میں پڑھو اور اس کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجاؤ۔ اور میری یہ بات تمہارے پاس امانت ہے اگر میں مر بھی گیا اور حجاج کو اتنی قدرت ہوئی کہ وہ میری قبر کو اکھاڑے تو وہ ضرور اکھاڑے گا۔