(۳۲۴۶۵) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَی غُفْرَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی إبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ إذَا نَعَتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَمْ یَکُنْ بِالطَّوِیلِ الْمُمَغَّطِ ، وَلاَ بِالْقَصِیرِ الْمُتَرَدِّد ، کَانَ رَبْعَۃً مِنَ الرِّجَالِ ، کَانَ جَعْدَ الشَّعْرِ ، وَلَمْ یَکُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطِطِ ، وَلاَ بِالسَّبْطِ ، کَانَ جَعْدًا رَجِلا ، وَلَمْ یَکُنْ بِالْمُطَہَّمِ ، وَلاَ الْمُکَلْثَمِ ، کَانَ فِی الْوَجْہِ تَدْوِیرٌ ، أَبْیَضَ مُشْرَبًا حُمْرَۃً ، أَدْعَجَ الْعَیْنَیْنِ ، أَہْدَبَ الأَشْفَارِ ، جَلِیلَ الْمُشَاشِ وَالْکَتَدِ ، أَجْرَدَ ، ذَا مَسْرُبَۃٍ ، شَثْنَ الْکَفَّیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ ، إذَا مَشَی تَقَلَّعَ کَأَنَّمَا یَمْشِی فِی صَبَبٍ ، إِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا ، بَیْنَ کَتِفَیْہِ خَاتَمُ النُّبُوَّۃِ وَہُوَ خَاتَمُ النَّبِیُّینَ ، أَجْوَدَ النَّاسِ کَفًّا ، وَأَجْرَأَ النَّاسِ صَدْرًا ، وَأَصْدَقَ النَّاسِ لَہْجَۃً ، وَأَوْفَی النَّاسِ بِذِمَّۃٍ ، وَأَلْیَنَہُمْ عَرِیکَۃً ، وَأَکْرَمَہُمْ عِشْرَۃً ، مَنْ رَآہُ بَدِیہَۃً ہَابَہُ ، وَمَنْ خَالَطَہُ مَعْرِفَۃً أَحَبَّہُ ، یَقُولُ نَاعِتُہُ : لَمْ أَرَ مِثْلَہُ قَبْلَہُ وَلاَ بَعْدَہُ۔
(احمد ۸۹۔ ابن سعد ۴۱۰)
(٣٢٤٦٥) حضرت ابراہیم بن محمد جو حضرت علی کی اولاد میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت علی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت بیان فرماتے تو فرماتے کہ آپ نہ لمبے تھے اور نہ بہت چھوٹے قد والے، آپ متوسط قد کے مالک تھے، اور آپ ہلکے گھنگریالے بالوں والے تھے اور بہت گھنگریالے بالوں والے تھے نہ بالکل سیدھے بالوں والے تھے، بلکہ آپ ہلکے خمدار بالوں والے تھے، آپ بہت گوشت والے تھے نہ گول چہرے والے، بلکہ آپ کے چہرے میں ہلکی گولائی تھی، آپ گوری رنگت والے تھے جس میں سرخی ملی ہوئی تھی، آپ کی آنکھ کی سیاہی شدید سیاہ تھی اور پلکیں لمبی تھیں۔ کندھوں کا بالائی اور درمیانی حصّہ مضبوط تھا، بغیر بالوں کے تھے اور آپ کے سینے پر ناف تک بالوں کی لڑی تھی، موٹی ہتھیلی اور قدموں والے تھے جب چلتے تو مضبوطی سے چلتے گویا ڈھلوان کی طرف جا رہے ہوں، جب کسی طرف مڑتے تو پورے مڑتے ، آپ کے کندھوں کے درمیان نبوت کی مہر تھی، اور آپ خاتم النبیین تھے، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ جری تھے، اور سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والے تھے، اور سب سے زیادہ عمدہ معاشرت والے تھے، جو آپ کو اچانک دیکھتا تو ہیبت زدہ ہوجاتا، اور جو مل جل کر معرفت کے ساتھ رہتا آپ سے محبت کرنے لگتا، آپ کی صفت بیان کرنے والا کہتا ہے کہ میں نے آپ جیسا آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد۔