(۳۲۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ : أَنْ صَلُّوا الْفَجْرَ وَالنُّجُومُ مُشْتَبِکَۃٌ نَیِّرَۃٌ ، وَصَلُّوا الظُّہْرَ إذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ ، وَصَلُّوا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ ، وَصَلُّوا الْمَغْرِبَ حِینَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، وَرَخَّصَ فِی الْعِشَائِ۔
(٣٢٤٩) حضرت علی بن عمرو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر کا خط آیا جس میں مکتوب تھا : فجر کی نماز کو اس وقت پڑھو جب ستارے روشن ہوں اور نظر آرہے ہوں۔ ظہر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج وسط آسمان سے زائل ہوجائے۔ عصر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج سفید اور روشن ہو۔ مغرب کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج غروب ہوجائے اور آپ نے عشاء کی نماز میں رخصت دی۔