hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32496

.

ابن أبي شيبة

32496
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۴۹۷) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ سَمِعَ رَجُلاً مِنَ الْیَہُودِ وَہُوَ فِی السُّوقِ وَہُوَ یَقُولُ : وَالَّذِی اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْبَشَرِ ، فَضَرَبَ وَجْہَہُ ، وَقَالَ : أَیْ خَبِیثُ ، أَعَلَی أَبِی الْقَاسِمِ ؟ فَانْطَلَقَ الْیَہُودِیُّ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا أَبَا الْقَاسِمِ ، ضَرَبَ وَجْہِی فُلاَنٌ ، فَأَرْسَلَ إلَیْہِ فَدَعَاہُ ، فَقَالَ : لِمَ ضَرَبْت وَجْہَہُ ، فَقَالَ : إنِّی مَرَرْت بِہِ فِی السُّوقِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : وَالَّذِی اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْبَشَرِ ، فَأَخَذَتْنِی غَضْبَۃٌ فَضَرَبْتُ وَجْہَہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُخَیِّرُوا بَیْنَ الأَنْبِیَائِ ، فَإِنَّ النَّاسَ یُصْعَقُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَرْفَعُ رَأْسِی فَإِذَا أَنَا بِمُوسَی آخِذٌ بِقَائِمَۃٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلاَ أَدْرِی أَصَعِقَ فِیمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِی ، أَوْ حُوسِبَ بِصَعْقَتِہِ الأُولَی ، أَوَ قَالَ : کَفَتْہُ صَعْقَتُہُ الأُولَی۔
(٣٢٤٩٧) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے ایک یہودی کو بازار میں یہ کہتے سنا کہ ” اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو انسانوں پر فضیلت دی، اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا، اور کہا اے خبیث ! کیا ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ؟ چنانچہ وہ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور کہا کہ اے ابو القاسم ! فلاں شخص نے میرے چہرے پر مارا ہے، آپ نے ایک آدمی بھیج کر اس کو بلوایا اور فرمایا کہ تم نے اس کے چہرے پر کیوں مارا ؟ اس نے کہا کہ میں اس کے پاس سے بازار میں گزر رہا تھا کہ میں نے اس کو کہتے ہوئے سنا کہ ” اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو انسانوں پر فضیلت دی “ چنانچہ مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے چہرے پر مار دیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ انبیاء کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دو کیونکہ لوگوں کو قیامت کے دن ایک جھٹکا دیا جائے گا، چنانچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو موسیٰ (علیہ السلام) عرش کے پائے پکڑے ہوں گے، مجھے علم نہیں کہ ان کو لوگوں کے ساتھ جھٹکا دیا جائے گا اور پھر ان کو مجھ سے پہلے افاقہ ہوجائے گا یا پہلا جھٹکا ان کو کافی ہوجائے گا۔