(۳۲۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : الظُّہْرُ کَاسْمِہَا ، وَالْعَصْرُ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ حَیَّۃٌ، وَالْمَغْرِبُ کَاسْمِہَا، کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَأْتِی مَنَازِلَنَا عَلَی قَدْرِ مِیلٍ فَنَرَی مَوَاقِعَ النَّبْلِ ، وَکَانَ یُعَجِّلُ بِالْعِشَائِ ، وَیُؤَخِّرُ ، وَالْفَجْرُ کَاسْمِہَا ، وَکَانَ یُغَلِّسُ بِہَا۔ (احمد ۳/۳۰۳۔ عبدالرزاق ۲۰۹۱)
(٣٢٥١) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ظہر اپنے نام کی طرح ہے۔ عصر کو اس وقت پڑھنا ہے جب سورج روشن اور چمکدار ہو، مغرب بھی اپنے نام کی طرح ہے۔ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھا کرتے تھے پھر ہم ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں میں آجاتے اور پھر بھی ہمیں ایک تیرپھینکنے کی دوری تک کی چیزیں نظر آتی تھیں۔ آپ عشاء کی نماز کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے پڑھا کرتے تھے۔ فجر اپنے نام کی طرح ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے۔