(۳۲۵۴۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَعْقُوبَ ، قَالَ : قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ : لاَ تُکْثِرُوا الْکَلاَمُ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللہِ فَتَقْسُوَ قُلُوبُکُمْ ، فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِیَ بَعِیدٌ مِنَ اللہِ وَلَکِنْ لاَ تَعْلَمُونَ ، لاَ تَنْظُرُوا فِی ذُنُوبِ الْعِبَادِ کَأَنَّکُمْ أَرْبَابٌ ، وَانْظُرُوا فِی ذُنُوبِکُمْ کَأَنَّکُمْ عَبِید ، فَإِنَّمَا النَّاسُ رَجُلاَنِ : مُبْتَلًی وَمُعَافًی ، فَارْحَمُوا أَہْلَ الْبَلاَئِ ، وَاحْمَدُوا اللَّہَ عَلَی الْعَافِیَۃِ۔
(٣٢٥٤٠) حضرت محمد بن یعقوب فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ کوئی بات نہ کرو کیونکہ اس سے تمہارے دل سخت ہوجائیں گے اور سخت دل اللہ سے دور ہیں لیکن تم نہیں جانتے بندوں کے گناہوں کو اس طرح مت دیکھو گویا کہ تم ان کے رب ہو بلکہ اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھو کہ تم بندے ہو کیونکہ لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو آزمائش میں مبتلا ہیں دوسرے وہ جو عافیت میں ہیں لہٰذا تم آزمائش میں مبتلا لوگوں پر رحم کرو اور عافیت پر اللہ کی تعریف کرو۔