hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32548

.

ابن أبي شيبة

32548
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۵۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لَمَّا أَصَابَ دَاوُد الْخَطِیئَۃُ ، وَإِنَّمَا کَانَتْ خَطِیئَتُہُ إِنَّہُ لَمَّا أَبْصَرَہَا أَمَرَ بِہَا فَعَزَلَہَا ، فَلَمْ یَقْرَبْہَا ، فَأَتَاہُ الْخَصْمَانِ فَتَسَوَّرُوا فِی الْمِحْرَابِ ، فَلَمَّا أَبْصَرَہُمَا قَامَ إلَیْہِمَا ، فَقَالَ : اُخْرُجَا عَنِّی ، مَا جَائَ بِکُمَا إلَیّ َ؟ فَقَالاَ : إنَّمَا نُکَلِّمُک بِکَلاَمُ یَسِیرٍ ، {إنَّ ہَذَا أَخِی لَہُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَۃً وَلِی نَعْجَۃٌ وَاحِدَۃٌ} وَہُوَ یُرِیدُ أَنْ یَأْخُذَہَا مِنِّی ، قَالَ : فَقَالَ دَاوُد عَلَیْہِ السَّلاَمُ : وَاللہِ إِنَّہُ أَحَقُّ أَنْ یکسر مِنْہُ مِنْ لَدُنْ ہَذِہِ إلَی ہَذِہِ - یَعْنِی مِنْ أَنْفِہِ إلَی صَدْرِہِ - فَقَالَ الرَّجُلُ : ہَذَا دَاوُد قَدْ فَعَلَہُ۔ فَعَرَفَ دَاوُد عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَنَّہ إنَّمَا ، یُعْنَی بِذَلِکَ ، وَعَرَفَ ذَنْبَہُ ، فَخَرَّ سَاجِدًا أَرْبَعِینَ یَوْمًا وَأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً ، وَکَانَتْ خَطِیئَتُہُ مَکْتُوبَۃً فِی یَدِہِ ، یَنْظُرُ إلَیْہَا لِکَیْ لاَ یَغْفُلَ حَتَّی نَبَتَ الْبَقْلُ حَوْلَہُ مِنْ دُمُوعِہِ مَا غَطَّی رَأْسَہُ، فَنَادَی بَعْدَ أَرْبَعِینَ یَوْمًا : قَرِحَ الْجَبِینُ وَجَمَدَتِ الْعَیْنُ ، وَدَاوُد لَمْ یُرْجَعْ إلَیْہِ فِی خَطِیئَۃٍ بشَیْئٌ فَنُودِیَ : أَجَائِعٌ فَتُطْعَمُ ؟ أَمْ عُرْیَانُ فَتُکْسَی ؟ أَمْ مَظْلُومٌ فَتُنْصَرُ ؟ قَالَ : فَنَحَبَ نَحْبَۃً ہَاجَ مَا یَلِیہِ مِنَ الْبَقْلِ حِینَ لَمْ یَذْکُرْ ذَنْبَہُ فَعِنْدَ ذَلِکَ غُفِرَ لَہُ ، فَإِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ قَالَ لَہُ رَبُّہُ : کُنْ أَمَامِی ، فَیَقُولُ : أَیْ رَبِّ ذَنْبِی ذَنْبِی ، فَیَقُولُ لَہُ : کُنْ مِنْ خَلْفِی ، فَیَقُولُ : أَیْ رَبِّ ذَنْبِی ذَنْبِی ، فَیَقُولُ لَہُ : خُذْ بِقَدَمِی فَیَأْخُذُ بِقَدَمِہِ۔
(٣٢٥٤٩) مجاہد سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) سے غلطی ہوئی ، اور ان کی غلطی یہ تھی کہ جب انھوں نے اس عورت کو دیکھا تو اس کو دور کردیا، اور اس کے قریب نہیں گئے چنانچہ دو جھگڑنے والے آپ کے پاس آئے اور انھوں نے دیوار کو پھاندا، جب آپ نے ان کو دیکھا تو کھڑے ہو کر ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ میرے پاس سے چلے جاؤ، تم یہاں کس غرض سے آئے ہو ؟ وہ کہنے لگے کہ ہم آپ سے تھوڑی سی بات کرنا چاہتے ہیں، میرے اس بھائی کی ننانوے مینڈھیاں ہیں اور میری ایک مینڈھی ہے اور یہ مجھ سے وہ ایک بھی لینا چاہتا ہے، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ واللہ ! یہ اس کا مستحق ہے کہ اس کا یہاں سے یہاں تک کا جسم توڑ دیا جائے، یعنی ناک سے سینے تک، وہ آدمی کہنے لگا کہ داؤد نے یہ کام کردیا۔
چنانچہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ وہ اس سے کیا مراد لے رہا ہے، اور ان کو اپنے گناہ کا علم ہوگیا، چنانچہ وہ چالیس دن رات سجدے میں رہے اور ان کا گناہ ان کے ہاتھ میں لکھا رہتا تاکہ کسی وقت بھول نہ جائیں، یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں کی وجہ سے ان کے گرد خود رو سبزیاں اگ گئیں، چنانچہ انھوں نے چالیس دن کے بعد پکارا کہ پیشانی زخمی ہوگئی، اور آنکھ خشک ہوگئی اور داؤد کی غلطی کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہوا، چنانچہ پکارا گیا کیا کوئی بھوکا ہے کہ اس کو کھانا کھلایا جائے ؟ یا کوئی برہنہ ہے کہ اس کو پہنایا جائے ؟ یا کوئی مظلوم ہے کہ اس کی مدد کی جائے ؟ چنانچہ آپ اتنا روئے کہ جس سے آپ کے قریب کی گھاس زرد ہوگئی، اس وقت اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا ، جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے سامنے آؤ، وہ عرض کریں گے کہ میرا گناہ ! اللہ فرمائیں گے کہ میرے پیچھے آؤ وہ کہیں گے کہ اے رب ! میرا گناہ، اللہ ان سے فرمائیں گے کہ میرے قدم پکڑ لو، چنانچہ وہ اللہ کے قدموں کو پکڑ لیں گے۔