(۳۲۵۶۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِیَّۃَ ، عَنْ أُمِّہِ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ الْمَسْجِدَ وَابْنُ الزُّبَیْرِ مَصْلُوبٌ ، فَقَالُوا : ہذہ أَسْمَائُ ، قَالَ : فَأَتَاہَا فَذَکَّرَہَا وَوَعَظَہَا ، وَقَالَ لَہَا : إنَّ الْجِیفَۃَ لَیْسَتْ بِشَیْئٍ ، وَإِنَّمَا الأَرْوَاحُ عِنْدَ اللہِ فَاصْبِرِی وَاحْتَسِبِی ، قَالَتْ : وَمَا یَمْنَعنی مِنَ الصَّبْرِ وَقَدْ أُہْدِیَ رَأْسُ یَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا إلَی بَغِیٍّ مِنْ بَغَایَا بَنِی إسْرَائِیلَ۔
(٣٢٥٦٧) منصور بن صفیہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابن عمر مسجد میں داخل ہوئے جب کہ ابن زبیر (رض) کو سولی پر لٹکایا ہوا تھا، لوگ کہنے لگے کہ یہ حضرت اسماء تشریف فرما ہیں، آپ ان کے پاس گئے ، ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ جسم کوئی چیز نہیں بلکہ اللہ کے پاس تو روحیں پہنچتی ہیں، اس لیے تم صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو، انھوں نے فرمایا کہ مجھے صبر سے کیا چیز روکے گی جبکہ یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کا سر بنی اسرائیل کی زانیہ کو دیا گیا تھا ؟