(۳۲۵۷۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِیٌّ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ ؟ فَقَالَ : لَمْ یَکُنْ نَبِیًّا ، وَلاَ مَلِکًا ، وَلَکِنَّہُ کَانَ عَابِدًا نَاصَحَ اللَّہَ فَنَصَحَہُ ، فَدَعَا قَوْمَہُ إلَی اللہِ فَضُرِبَ عَلَی قَرْنِہِ الأَیْمَنِ فَمَاتَ فَأَحْیَاہُ اللَّہُ ، ثُمَّ دَعَا قَوْمَہُ إلَی اللہِ فَضُرِبَ عَلَی قَرْنِہِ الأَیْسَرِ فَمَاتَ فَأَحْیَاہُ اللَّہُ فَسُمِّیَ ذَا الْقَرْنَیْنِ۔
(٣٢٥٧٧) ابو طفیل ایک دوسری سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ نبی تھے نہ بادشاہ ، بلکہ وہ ایک نیک بندے تھے جنہوں نے اللہ سے خیرخواہی کی تو اللہ نے ان کے ساتھ خیر خواہی کی، چنانچہ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی، اور آپ کے سر کے دائیں جانب مارا گیا اور وہ مرگئے تو اللہ نے ان کو پھر زندہ کردیا، اور پھر انھوں نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا ، اور دوبارہ ان کے سر کی بائیں جانب مارا گیا تو وہ دوبارہ مرگئے ، چنانچہ اللہ نے ان کو دوبارہ زندہ کردیا، اس لیے ان کا نام ” ذوالقرنین “ مشہور ہوگیا۔