(۳۲۵۸۹) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ حُنَیْنٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعیدٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَقَالَ : إنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَیَّ فِی صُحْبَتِہِ وَمَالِہِ أَبُو بَکْرٍ ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِیلاً لاتَّخَذْت أَبَا بَکْرٍ ، وَلَکِنْ أُخُوَّۃُ الإسْلاَمِ وَمَوَدَّتُہُ ، لاَ یَبْقَی فِی الْمَسْجِدِ بَابٌ إلاَّ سُدَّ إلاَّ بَابَ أَبِی بَکْرٍ۔
(بخاری ۳۹۰۴۔ مسلم ۱۸۵۵)
(٣٢٥٨٩) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے خطاب فرمایا : اور کہا : یقیناً لوگوں میں سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے اپنی محبت اور مال کے اعتبار سے ابوبکر ہیں۔ اگر میں لوگوں میں سے کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا لیکن ان سے اسلامی اخوت اور محبت ہے۔ اور مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کردیے جائیں سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔