(۳۲۵۹۵) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَعَتَ یَوْمًا الْجَنَّۃَ ، وَمَا فِیہَا مِنَ الْکَرَامَۃِ ، فَقَالَ فِیمَا یَقُولُ : إنَّ فِیہَا لَطَیْرًا أَمْثَالَ الْبُخْتِ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ تِلْکَ الطَّیْرَ نَاعِمَۃٌ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، مَنْ یَأْکُلُ مِنْہَا أَنْعَمُ مِنْہَا ، وَاللہِ یَا أَبَا بَکْرٍ ، إنِّی لأَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِمَّنْ یَأْکُلُ مِنْہَا۔ (احمد ۲۲۱)
(٣٢٥٩٥) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن جنت میں اور اس میں پائی جانے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا : بلاشبہ اس میں پائے جانے والے پرندے خراسانی اونٹ کے مانند ہوں گے۔ پس ابوبکر (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ پرندے موٹے بھی ہوں گے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! جو ان کو کھائے گا تو وہ اس سے خوش ہوگا۔ اللہ کی قسم ! اے ابوبکر ! میں امید کرتا ہوں کہ تم ان پرندوں کے کھانے والوں میں سے ہو گے۔