(۳۲۶۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : أَشْہَدُ عَلَی تِسْعَۃٍ أَنَّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ ، وَلَوْ شَہِدْت عَلَی الْعَاشِرِ لَصَدَقْت ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا ذَاکَ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی حِرَائٍ ، وَأَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ وَعُثْمَان وَعَلِیٌّ وَطَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ وَسَعْدُ بْنُ مَالِکٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اثْبُتْ حِرَائُ فَإِنَّہُ لَیْسَ عَلَیْک إلاَّ نَبِیٌّ ، أَوْ صِدِّیقٌ ، أَوْ شَہِیدٌ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنِ الْعَاشِرُ ، قَالَ : أَنَا۔ (ابوداؤد ۴۶۱۶۔ ابن حبان ۶۹۹۶)
(٣٢٦١١) حضرت عبداللہ بن ظالم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نو لوگوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً وہ جنت میں ہوں گے اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دوں تو یقیناً میں سچا ہوں گا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا ! وہ کون ہے ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراء پہاڑی پر تھے اور ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن مالک، اور عبد الرحمن بن عوف (رض) بھی ساتھ تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے حرائ ! ٹھہر جاؤ، نہیں تم پر مگر ایک نبی یا صدیق یا شہید۔ راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا : دسواں شخص کون تھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : کہ میں ہوں۔