(۳۲۶۲۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لِکُلِّ أَہْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یُدْعَوْنَ مِنْہُ بِذَاکَ الْعَمَلِ، فَلأَہْلِ الصِّیَامِ بَابٌ یُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَہَلْ مِنْ أَحَدٍ یُدْعَی مِنْ تِلْکَ الأَبْوَابِ کُلِّہَا ، قَالَ : نَعَمْ ، وَإِنِّی أَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِنْہُمْ یَا أَبَا بَکْرٍ۔
(٣٢٦٢٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر عمل والے کے لیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ اور وہ اس عمل کی وجہ سے اس دروازے سے پکارے جائیں گے۔ پس روزہ دار کے لیے بھی ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں۔ تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : کیا کوئی شخص ایسا ہوگا جو ان سب دروازوں سے پکارا جائے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! اور یقیناً مجھے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو گے۔