(۳۲۶۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، قَالَ: حدَّثَنِی کَہْمَسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ شَقِیقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الأَقْرَعُ شَکَّ کَہْمَسٌ : لاَ أَدْرِی الأَقْرَعُ الْمُؤَذِّنُ ہُوَ ، أَوْ غَیْرُہُ ، قَالَ أَرْسَلَ عُمَرُ إِلَی الأُسْقُفِ قَالَ : فَہُوَ یَسْأَلُہُ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَیْہِمَا أُظِلُّہُمَا مِنَ الشَّمْسِ، فَقَالَ لَہُ: ہَلْ تَجِدُنَا فِی کِتَابِکُمْ، فَقَالَ: صِفَتَکُمْ وَأَعْمَالَکُمْ، قَالَ: فما تَجِدُنِی، قَالَ : أَجِدُک قَرْنًا مِنْ حَدِیدٍ ، قَالَ : فَنَفِطَ عُمَرُ فِی وَجْہِہِ وَقال َ: قَرْنٌ حَدِیدٌ ؟ قَالَ : أَمِینٌ شَدِیدٌ ، فَکَأَنَّہُ فَرِحَ بِذَلِکَ ، قَالَ : فَمَا تَجِدُ بَعْدِی ؟ قَالَ : خَلِیفَۃٌ صِدق یُؤْثِرُ أَقْرَبِیہِ ، قَالَ : یقول عُمَرُ : یَرْحَمُ اللہ ابن عَفَّان ، قَالَ : فَمَا تَجِدُ بَعْدَہُ ؟ قَالَ : صَدَع من حَدِید ، قَالَ : وَفِی یَدِ عُمَرَ شَیئٌ یُقَلِّبُہُ ، قَالَ : فَنَبَذَہُ فَقَالَ: یَا دَفْرَاہُ - مَرَّتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، قَالَ: فَلاَ تَقُلْ ذَلِکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، فَإِنَّہُ خَلِیفَۃٌ مُسْلِمٌ وَرَجُلٌ صَالِحٌ، وَلَکِنَّہُ یُسْتَخْلَفُ، وَالسَّیْفُ مَسْلُولٌ ، وَالدَّامُ مُہَْرَاقٍ ، قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیَّ ثُمَّ قَالَ : الصَّلاَۃُ۔ (ابوداؤد ۴۶۱۵)
(٣٢٦٦٣) حضرت عبداللہ بن شقیق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت اقرع (رض) نے ارشاد فرمایا : حضرت کھمس (رض) کو شک تھا فرمایا : میں نہیں جانتا کہ اقرع سے مراد مؤذن ہیں یا کوئی اور ۔۔۔ بہرحال حضرت عمر (رض) نے قاصد بھیج کر بڑے پادری کو بلا کر پوچھا اس حال میں کہ میں ان دونوں کے پاس کھڑا ہو کر ان دونوں پر سورج کی دھوپ سے سایہ کررہا تھا، کیا تمہاری کتابوں میں ہمارا ذکر موجود ہے ؟ تو اس پادری نے کہا : تمہارے اوصاف اور تمہارے اعمال کا ذکر ہے۔ آپ (رض) نے پوچھا : میرے بارے میں تمہیں کیا کچھ پتہ ہے ؟ اس نے کہا : آپ (رض) کے بارے میں لوہے کے سینگ کا ذکر پاتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) کے چہرے میں غصہ کے آثار نمودار ہوئے اور فرمایا : لوہے کا سینگ ؟ اس نے کہا : مراد ہے کہ بہت زیادہ امانت دار ہو، تو آپ (رض) کو اس سے بہت خوشی ہوئی۔ فرمایا : میرے بعد کا کیسے ذکر ہے ؟ اس نے کہا : سچا خلیفہ ہوگا جو اپنے قریبی رشتہ داروں کو ترجیح دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ ابن عفان پر رحم کرے۔ آپ (رض) نے پوچھا : ان کے بعد کا کیسے ذکر ہے ؟ بہت شدید شگاف ہوگا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے آپ (رض) الٹ پلٹ رہے تھے۔ آپ (رض) نے اس کو پھینک دیا اور دو یا تین مرتبہ فرمایا : افسوس ذلیل شخص پر ! اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! آپ ایسے مت کہیے۔ یقیناً وہ مسلمان خلیفہ ہوں گے اور نیک آدمی ہوں گے۔ لیکن انھیں خلیفہ بنایا جائے گا اس حال میں کہ تلوار لٹکی ہوئی ہوگی اور خون بہایا جا چکا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ (رض) نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : نماز کا وقت ہے۔