(۳۲۶۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ مَالِکِ الدَّارِ ، قَالَ : وَکَانَ خَازِنَ عُمَرَ عَلَی الطَّعَامِ ، قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِی زَمَنِ عُمَرَ ، فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی قَبْرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اسْتَسْقِ لأُمَّتِکَ فَإِنَّہُمْ قَدْ ہَلَکُوا ، فَأَتَی الرَّجُلَ فِی الْمَنَامِ فَقِیلَ لَہُ : ائْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْہُ السَّلامَ ، وَأَخْبِرْہُ أَنَّکُمْ مُسْتَقِیمُونَ وَقُلْ لَہُ : عَلَیْک الْکَیْسُ ، عَلَیْک الْکَیْسُ ، فَأَتَی عُمَرَ فَأَخْبَرَہُ فَبَکَی عُمَرُ ، ثُمَّ قَالَ : یَا رَبِّ لاَ آلُو إلاَّ مَا عَجَزْت عَنْہُ۔
(٣٢٦٦٥) حضرت مالک الدار (رض) حضرت عمر (رض) کے شعبہ طعام میں خزانچی تھے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے زمانے میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوگئے پس ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر پر حاضر ہو کر یوں کہنے لگا : اے اللہ کے رسول 5! اپنی امت کے لیے پانی طلب کیجئے وہ ہلاک ہوگئی ہے ! تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آدمی کو خواب میں نظر آئے اور اس سے کہا : عمر (رض) کے پاس جا کر اسے میرا سلام کہو اور اسے بتاؤ کہ لوگ سیراب ہونے کی جگہ میں ہیں، اور اس سے کہو : تم پر دانشمندی لازم ہے۔ تم پر دانشمندی لازم ہے۔ پس وہ آدمی حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عمر (رض) کو اس خواب کی خبر دی ، تو حضرت عمر (رض) رونے لگے پھر فرمایا : اے میرے پروردگار ! کوئی کوتاہی نہیں مگر میں اس سے عاجز آگیا۔