(۳۲۶۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ زُبَیْدٍ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا بَکْرٍ الْوَفَاۃُ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ لِیَسْتَخْلِفَہُ ، قَالَ : فَقَالَ النَّاسُ : اسْتَخْلَفْت عَلَیْنَا فَظًّا غَلِیظًا ، فَلَوْ مَلَکَنَا کَانَ أَفَظَّ وَأَغْلَظَ ، مَاذَا تَقُولُ لِرَبِّکَ إذَا أَتَیْتہ وَقَدِ اسْتَخْلَفْت عَلَیْنَا ، قَالَ : أَتُخَوِّفُونِی بِرَبِّی ، أَقُولُ : اللَّہُمَّ أَمَّرْت عَلَیْہِمْ خَیْرَ أَہْلِک۔
(٣٢٦٧٦) حضرت اسماعیل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زبید (رض) نے ارشاد فرمایا : جب حضرت ابوبکر (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ (رض) نے قاصد بھیج کر حضرت عمر (رض) کو بلایا تاکہ ان کو خلیفہ بنادیں۔ تو لوگ کہنے لگے ! آپ (رض) ہم پر سخت مزاج کو خلیفہ بنادیں گے۔ پس اگر وہ ہمارے مالک ہوگئے تو وہ مزید سخت شدید مزاج والے ہوجائیں گے۔ آپ (رض) اپنے رب کو کیا جواب دیں گے جب آپ ان کے پاس جائیں گے کہ آپ نے ان کو ہم پر خلیفہ بنادیا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم لوگ مجھے میرے رب سے خوف دلاتے ہو ؟ ! میں جواب دوں گا : اے اللہ ! میں نے ان لوگوں پر تیرے سب سے بہترین بندے کو امیر بنادیا۔