(۳۲۶۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَی عُمَرَ حِینَ طُعِنَ ، فَقَالَ لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنْ کَانَ إسْلاَمُک لَنَصْرًا ، وَإِنْ کَانَتْ إمَارَتُک لَفَتْحًا ، وَاللہِ لَقَدْ مَلأَتِ الأَرْضَ عَدْلاً حَتَّی إنَّ الرَّجُلَیْنِ لَیَتَنَازَعَانِ فَیَنْتَہِیَانِ إِلَی أَمْرِکَ ، قَالَ عُمَرُ : أَجْلِسُونِی ، فَأَجْلَسُوہُ ، قَالَ : رُدَّ عَلَیَّ کَلاَمُک ، قَالَ : فَرَدَّہُ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَتَشْہَدُ لِی بِہَذَا الْکَلاَمُ یَوْمَ تَلْقَاہُ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَسَّرَ ذَلِکَ عُمَرَ وَفَرِحَ۔
(٣٢٦٧٨) حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کو نیزہ مارا گیا تو حضرت ابن عباس (رض) آپ (رض) کے پاس تشریف لائے اور آپ (رض) سے فرمایا : اے امیر المؤمنین : یقیناً آپ کا اسلام مسلمانوں کی مدد ثابت ہوا، اور آپ کی خلافت مسلمانوں کی فتح۔ اللہ کی قسم ! آپ (رض) نے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا۔ یہاں تک کہ اگر دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوتا تو وہ دونوں آپ کی طرف اپنا معاملہ سونپ دیتے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : لوگو مجھے بٹھا دو ۔ پس لوگوں نے ان کو بٹھایا ۔ آپ (رض) نے فرمایا : مجھ پر دوبارہ اپنی بات دہراؤ ۔ تو حضرت ابن عباس (رض) نے دوبارہ اپنی بات دہرائی۔ آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم اس بات کی اس دن گواہی دو گے جب تم اپنے رب سے ملو گے ؟ انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں۔ اس بات سے حضرت عمر (رض) مسرور ہوئے اور بہت خوش ہوئے۔