(۳۲۶۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الصَّلْتُ بْنُ بَہْرَامُ ، عَنْ سَیَّارٍ أَبِی الْحَکَمِ ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ لَمَّا ثَقُلَ أَطْلَعَ رَأْسَہُ إِلَی النَّاسِ مِنْ کُوَّۃٍ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إنِّی قَدْ عَہِدْت عَہْدًا ، أَفَتَرْضَوْنَ بِہِ فَقَامَ النَّاسُ فَقَالُوا : قَدْ رَضِینَا ، فَقَامَ عَلِیٌّ ، فَقَالَ : لاَ نَرْضَی إلاَّ أَنْ یَکُونَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَکَانَ عُمَرَ۔
(٣٢٦٨٣) حضرت صلت بن بھرام (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سیار ابو الحکم (رض) نے ارشاد فرمایا : حضرت ابوبکر (رض) کی بیماری جب بڑھ گئی تو وہ روشن دان سے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے : اے لوگو ! میں نے ایک فیصلہ کیا ہے کیا تم لوگ اس سے خوش ہوئے ؟ پس لوگ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ ہم راضی نہیں ہوں گے مگر یہ کہ وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ہوں۔ تو وہ حضرت عمر (رض) ہی تھے۔