(۳۲۶۸۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا کَہْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ ، قَالَ َ: حَدَّثَنِی ہَرَم بْنُ الْحَارِثِ وَأُسَامَۃُ بْنُ خُرَیمٍ وَکَانَا یُغَازِیَانِ فَحَدَّثَانِی حَدِیثًا ، وَلاَ یَشْعُرُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا أَنَّ صَاحِبَہُ حَدَّثَنِیہِ عَنْ مُرَّۃَ الْبَہْزِیِّ ، قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی طَرِیقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ : کَیْفَ تَصْنَعُونَ فِی فِتْنَۃٍ تَثُورُ فِی أَقْطَارِ الأَرْضِ کَأَنَّہَا صَیَاصِی بقر ، قَالُوا : فَنَصْنَعُ مَاذَا یَا رَسُولَ اللہِ قَالَ : عَلَیْکُمْ بِہَذَا وَأَصْحَابِہِ ، قَالَ : فَأَسْرَعْت حَتَّی عَطَفْت عَلَی الرَّجُلِ ، فَقُلْتُ : ہَذَا یَا نَبِیَّ اللہِ ، قَالَ : ہَذَا فَإِذَا ہُوَ عُثْمَان۔ (احمد ۳۳۔ ابن حبان ۶۹۱۴)
(٣٢٦٨٧) حضرت مرۃ البھزی (رض) فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک دن مدینہ کی گلیوں میں سے ایک گلی میں تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کا کیا حال ہوگا اس فتنہ میں جو اطراف زمین میں پھوٹ پڑے گا گویا کہ وہ گائے کے دو سینگوں کی طرح ہوگا۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم لوگ اس صورت میں کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگوں پر لازم ہے اس شخص کی اور اس کی جماعت کی پیروی کرنا۔ راوی کہتے ہیں : پس میں نے جلدی کی یہاں تک کہ میں اس آدمی کے پاس پہنچ گیا پھر میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی 5! یہ شخص ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی شخص ہے۔ تو وہ حضرت عثمان (رض) تھے۔