(۳۲۷۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ: حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ قَالَ: أَخْبَرَنَا قَیْسٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلَۃَ مَوْلَی عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ : وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِی بَعْضَ أَصْحَابِی ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : أَدْعُو لَکَ أَبَا بَکْرٍ ؟ قَالَتْ : فَسَکَتَ ، فَعَرَفْت أَنَّہُ لاَ یُرِیدُہُ ، فَقُلْتُ : أَدْعُو لَکَ عُمَرَ ؟ فَسَکَتَ ، فَعَرَفْت أَنَّہُ لاَ یُرِیدُہُ ، قُلْتُ : فَأَدْعُو لَکَ عَلِیًّا ؟ فَسَکَتَ ، فَعَرَفْت أَنَّہُ لاَ یُرِیدُہُ ، قُلْتُ : فَأَدْعُو لَکَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَدَعَوْتُہُ ، فَلَمَّا جَائَ أَشَارَ إلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تَبَاعَدِی ، فَجَائَ فَجَلَسَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لَہُ وَلَوْنُ عُثْمَانَ یَتَغَیَّرُ ، قَالَ قَیْسٌ : فَأَخْبَرَنِی أَبُو سَہْلَۃَ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الدَّارِ قِیلَ لِعُثْمَانَ : أَلاَ تُقَاتِلُ ، فَقَالَ : إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَہِدَ إلَیَّ عَہْدًا وَإِنِّی صَابِرٌ عَلَیْہِ ، قَالَ أَبُو سَہْلَۃَ : فَیَرَوْنَ أَنَّہُ ذَلِکَ الْمَجْلِسُ۔ (ابن سعد ۶۶۔ احمد ۵۲)
(٣٢٧٠٠) حضرت ابو سھلہ (رض) جو کہ حضرت عثمان (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض الوفات میں ارشاد فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس میرا ایک ساتھی ہو۔ تو حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : کیا میں ابوبکر (رض) کو بلا دوں ؟ آپ فرماتی ہیں۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بلانا نہیں چاہتے۔ تو میں نے عرض کیا : کہ میں عمر (رض) کو بلا دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے ۔ میں نے عرض کیا : کہ میں علی (رض) کو بلا دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے ۔ میں نے عرض کیا : میں عثمان بن عفان (رض) کو بلا دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ! پس میں نے ان کو بلوا دیا ۔ جب وہ حاضر ہوئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دور ہونے کے لیے اشارہ کیا۔ پس وہ آئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھ گئے ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کچھ فرماتے رہے اور حضرت عثمان کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا۔
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سھلہ (رض) نے مجھے بتلایا : کہ جب حضرت عثمان (رض) گھر میں محصور تھے۔ تو ان کو کہا گیا : آپ (رض) قتال کیوں نہیں کرتے ؟ ! تو آپ (رض) نے فرمایا : یقیناً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا اور میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔
حضرت ابو سھلہ (رض) فرماتے ہیں۔ صحابہ (رض) کا گمان تھا کہ وہ اسی مجلس میں وعدہ ہو اتھا۔