(۳۲۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الأَنْصَارِیُّ ، عَنْ حُمَیْدَۃَ ابْنَۃِ عُبَیْدِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ کَبْشَۃَ بِنْتِ کَعْبٍ ، وَکَانَتْ تَحْتَ بَعْضِ وَلَدِ أَبِی قَتَادَۃَ ؛ أَنَّہَا صَبَّتْ لأَبِی قَتَادَۃَ مَائً یَتَوَضَّأُ بِہِ ، فَجَائَتْ ہِرَّۃٌ تَشْرَبُ ، فَأَصْغَی لَہَا الإِنَائَ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ ! فَقَالَ : یَا ابْنَۃَ أَخِی أَتَعْجَبِینَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ ، ہِیَ مِنَ الطَّوَّافِینَ عَلَیْکُمْ، أَوْ : مِنَ الطَّوَّافَاتِ۔ (احمد ۵/۳۰۹۔ ابن ماجہ ۳۶۷)
(٣٢٧) حضرت ابو قتادہ کی بہو حضرت کبشہ بنت کعب فرماتی ہیں کہ وہ حضرت ابو قتادہ کے لیے وضو کا پانی ڈال رہی تھیں کہ اتنے میں ایک بلی آئی وہ پیاسی تھی، چنانچہ حضرت ابو قتادہ نے برتن اس بلی کے لیے جھکا دیا۔ میں اس منظر کو تعجب سے دیکھنے لگی تو انھوں نے فرمایا ” بیٹی تعجب کیوں کر رہی ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ بلی ناپاک نہیں ہے یہ تو تمہارے گھروں میں چکر لگانے والا جانور ہے۔