(۳۲۷۱۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا إبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ جَدِّہِ أَبِی حبیبۃ ، قَالَ : دَخَلْت الدَّارَ عَلَی عُثْمَانَ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَسَمِعْت أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِی فِتْنَۃً وَاخْتِلاَفًا ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ : فَمَا تَأْمُرُنِی ، فَقَالَ : عَلَیْکُمْ بِالأَمِیرِ وَأَصْحَابِہِ ، وَضَرَبَ عَلَی مَنْکِبِ عُثْمَانَ۔ (حاکم ۹۹)
(٣٢٧١٢) حضرت ابو حبیبہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان (رض) کے گھر میں داخل ہوا جب بلوائیوں نے ان کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ پس میں نے وہاں حضرت ابوہریرہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عنقریب میرے بعد تم فتنہ اور اختلاف پاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں : کہ ایک پوچھنے والے نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں کسی بات کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر امیر اور اس کے ساتھیوں کی اطاعت لازم ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کے کندھے پر ہاتھ مارا۔