(۳۲۷۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَ : قالَتْ حِینَ قُتِلَ عُثْمَان تَرَکْتُمُوہُ کَالثَّوْبِ النَّقِیِّ مِنَ الدَّنَسِ ، ثُمَّ قَرَّبْتُمُوہُ فَذَبَحْتُمُوہُ کَمَا یُذْبَحُ الْکَبْشُ ، ہلا کَانَ ہَذَا قَبْلَ ہَذَا ، قَالَ : فَقَالَ لَہَا مَسْرُوقٌ : ہَذا عَمَلک أَنْتِ کَتَبْت إِلَی أُنَاسٍ تَأْمُرِینَہُمْ بِالْخُرُوجِ ، قَالَ : فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لاَ وَالَّذِی آمَنَ بِہِ الْمُؤْمِنُونَ وَکَفَرَ بِہِ الْکَافِرُونَ ، مَا کَتَبْتُ إلَیْہِمْ سَوْدَائَ فِی بَیْضَائَ حَتَّی جَلَسْتُ مَجْلِسِی ہَذَا ، قَالَ الأَعْمَشُ : فَکَانُوا یَرَوْنَ أَنَّہُ کُتِبَ عَلَی لِسَانِہَا۔
(٣٢٧١٤) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان (رض) کو قتل کردیا گیا تو اس وقت حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں نے اس کو چھوڑ دیا ہے جیسا کہ گندگی صاف کپڑے کو چھوڑ دیتی ہے۔ پھر تم نے ان کو قریب کر کے ذبح کردیا جیسا کہ کسی مینڈھے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ یہ بات اس سے پہلے کیوں نہیں ہوئی ؟ تو حضرت مسروق (رض) نے ان سے عرض کیا : یہ تو آپ (رض) کے عمل کی وجہ سے ہوا کہ آپ (رض) ہی نے لوگوں کو خط لکھ کر ان کو خروج کا حکم دیا ! راوی کہتے ہیں : کہ اس پر حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : نہیں ! قسم ہے اس ذات کی جس پر تمام مومن ایمان لائے اور کافروں نے جس کے ساتھ کفر کیا۔ میں نے کسی سفیدی پر سیاہی سے نہیں لکھا یہاں تک کہ میں اپنی اس جگہ پر بیٹھ گئی۔
امام اعمش (رض) فرماتے ہیں : پس ان لوگوں کی رائے یہی تھی کہ یہ سب ان کی زبان پر لکھ دیا گیا تھا۔