(۳۲۷۱۸) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِیُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرٍ الْفَہْمِیَّ یَقُولُ : قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عُدَیْسٍ الْبَلَوِیُّ وَکَانَ مِمَّنْ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ ذَکَرَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ أَبُو ثَوْرٍ : فَدَخَلْتُ عَلَی عُثْمَانَ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقُلْتُ : إنَّ فُلاَنًا ذَکَرَ کَذَا وَکَذَا ، فَقَالَ عُثْمَان : وَمِنْ أَیْنَ وَقَدِ اخْتَبَأْتُ عِنْدَ اللہِ عَشْرًا : إنِّی لَرَابِعُ الإسْلاَمِ، وَقَدْ زَوَّجَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ابْنَتَہُ ، ثُمَّ ابْنَتَہُ ، وَقَدْ بَایَعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِی ہَذِہِ الْیُمْنَی فَمَا مَسِسْتُ بِہَا ذَکَرِی ، وَلاَ تَغَنَّیْتُ ، وَلاَ تَمَنَّیْت ، وَلاَ شَرِبْت خَمْرًا فِی جَاہِلِیَّۃٍ ، وَلاَ إسْلاَمٍ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یَشْتَرِی ہَذِہِ الزَّنقَۃَ ، وَیَزِیدُہَا فِی الْمَسْجِدِ لَہُ بَیْتٌ فِی الْجَنَّۃِ ، فَاشْتَرَیْتہَا وَزِدْتہَا فِی الْمَسْجِدِ۔ (ابن ابی عاصم ۱۳۰۸)
(٣٢٧١٨) حضرت یزید بن عمرو المعاصری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ثور الفھمی (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ عبد الرحمن بن عدیس جو کہ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی وہ بلوائیوں کے پاس آیا اور منبر پر چڑھا : حمدو ثنا کے بعد اس نے حضرت عثمان (رض) کا ذکر کیا۔ تو حضرت ابو ثور (رض) فرماتے ہیں کہ میں محاصرے کے دوران حضرت عثمان (رض) کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ فلاں شخص آپ (رض) کے بارے میں ایسے اور ایسے کہہ رہا ہے۔ پس حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : ایسی بات کیسے ہوسکتی ہے ؟ حالانکہ میں نے اللہ کے پاس دس خصوصیات ذخیرہ کی ہوئی ہیں۔ وہ یہ کہ میں اسلام لانے والا چوتھا شخص ہوں۔ اور تحقیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سے اپنی ایک بیٹی کا نکاح کیا، پھر دوسری بیٹی کا نکاح کیا اور تحقیق میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ سے رسول اللہ سے بیعت کی تو پھر کبھی بھی میں نے اس سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا۔ اور نہ ہی میں نے کبھی عشق و معشوقی کی۔ اور نہ ہی کبھی اس چیز کی میں نے کبھی تمنا و آرزو کی ۔ اور میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں اور نہ ہی زمانہ اسلام میں کبھی شراب پی۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا کہ کون شخص اس راستہ کے حصہ کو خرید کر اس سے مسجد کی توسیع کرے گا تو اس کے لیے اس کے بدلہ جنت میں گھر ہوگا ؟ پس میں نے اس جگہ کو خرید کر مسجد کی توسیع کی تھی۔