(۳۲۷۳۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ، قَالَ : خَلَّفَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ تُخَلِّفُنِی فِی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ ، فَقَالَ : أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی غَیْرَ أَنَّہُ لاَ نَبِیَّ بَعْدِی۔
(بخاری ۴۴۱۶۔ مسلم ۳۱)
(٣٢٧٣٧) حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی (رض) کو جانشین بنایا تو آپ (رض) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول 5! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک تھے ؟