(۳۲۷۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَیْتُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ عَمَّک الشَّیْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : فَقَالَ : انْطَلِقْ فَوَارِہِ ، ثُمَّ لاَ تُحَدِّثَنَّ شَیْئًا حَتَّی تَأْتِیَنِی ، قَالَ : فَوَارَیْتہ ، ثُمَّ أَتَیْتہ فَأَمَرَنِی فَاغْتَسَلْت ، ثُمَّ دَعَا لِی بِدَعَوَاتٍ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِہِنَّ مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ۔
(٣٢٧٥٢) حضرت ناجیۃ بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ جب ابو طالب کی وفات ہوگئی تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول 5! بلاشبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بوڑھا گمراہ چچا وفات پا گیا ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم ان کو لے جا کر دفن کردو۔ پھر تم ہرگز کچھ مت کرنا۔ یہاں تک کہ میرے پاس آجانا۔ آپ (رض) فرماتے ہیں : پس میں نے ان کو دفن کردیا۔ پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غسل کا حکم دیا ۔ پس میں نے غسل کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے چند دعائیں کی۔ میں پسند نہیں کرتا اس بات کو کہ میرے لیے ان دعاؤں کے عوض زمین پر یہ یہ چیزیں ہوں۔