(۳۲۷۶۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : بَیْنَمَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَہُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِہِ ، فَأَرْسَلَ إِلَی نِسَائِہِ فَلَمْ یَجِدْ عِنْدَ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ شَیْئًا ، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إذْ ہُمْ بِعَلِیٍّ قَدْ أَقْبَلَ شعثًا مُغْبَرًّا ، عَلَی عَاتِقِہِ قَرِیبٌ مِنْ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ قَدْ عَمِلَ بِیَدِہِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَرْحَبًا بِالْحَامِلِ وَالْمَحْمُولِ ، ثُمَّ أَجْلَسَہُ فَنَفَضَ ، عَنْ رَأْسِہِ التُّرَابَ ، ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِأَبِی تُرَابٍ ، فَقَرَّبَہُ ، فَأَکَلُوا حَتَّی صَدَرُوا ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی نِسَائِہِ إِلَی کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُنَّ طَائِفَۃً۔
(٣٢٧٦٠) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ان کے اصحاب کی ایک جماعت تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کے پاس کھانے کا پیغام بھیجا لیکن کسی بھی بیوی کے پاس کھانے کی کوئی چیز بھی نہ ملی۔ تو اچانک حضرت علی (رض) سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے جو غبار آلود اور پراگندہ حال میں تھے اور ان کے کندھے پر ایک صاع کے قریب کھجوریں تھیں۔ جو انھوں نے مزدوری کر کے حاصل کی تھیں۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خوش آمدید بوجھ اٹھانے والے کو اور اٹھائے ہوئے بوجھ کو، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنے پاس بٹھایا اور ان کے سر سے مٹی جھاڑی پھر ارشاد فرمایا : خوش آمدید ابوتراب ! پھر انھوں نے کھجوروں کو قریب کیا۔ یہاں تک کہ سب نے سیر ہو کر کھائیں ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی تمام ازواج مطہرات کو بھی اس میں سے حصہ بھیجا۔