(۳۲۷۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ أَبِی إِسْحَاق ، عن الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَیْشَیْنِ عَلَی أَحَدِہِمَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ، وَعَلَی الآخَرِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ، فَقَالَ : إِنْ کَانَ قِتَالٌ فَعَلِیٌّ عَلَی النَّاسِ ، فَافْتَتَحَ عَلِیٌّ حِصْنًا فَاتَّخَذَ جَارِیَۃً لِنَفْسِہِ ، فَکَتَبَ خَالِدٌ بِسَوْأتہ ، فَلَمَّا قَرَأَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْکِتَابَ ، قَالَ : مَا تَقُولُ فِی رَجُلٍ یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ۔ (ترمذی ۱۷۰۴۔ احمد ۳۵۶)
(٣٢٧٨٢) حضرت براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو لشکر بھیجے جن میں سے ایک پر حضرت علی (رض) کو امیر بنایا اور دوسرے لشکر پر حضرت خالد بن ولید (رض) کو ، پھر ارشاد فرمایا : اگر لڑائی ہو تو اس صورت میں حضرت علی (رض) لوگوں پر امیر ہوں گے۔ پس حضرت علی (رض) نے قلعہ کو فتح کرلیا۔ اور ایک باندی کو اپنے لیے خاص کرلیا اس پر حضرت خالد (رض) نے خط لکھ کر اس بات کی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ خط پڑھا تو ارشاد فرمایا : تم کیا کہتے ہو ایسے شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محبوب رکھتا ہے۔ اور اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو محبو ب رکھتے ہیں۔