(۳۲۷۹۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِی غَنِیَّۃَ، عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُرَیْدَۃَ، قَالَ : غزوت مَعَ عَلِیٍّ إِلَی الْیَمَنِ فَرَأَیْتُ مِنْہُ جَفْوَۃً ، فَلَمَّا قَدِمْت عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ذَکَرْت عَلِیًّا فَتنَقَّصْتُہُ ، فَجَعَلَ وَجْہُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَغَیَّرُ، فَقَالَ: أَلَسْت أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ ، قُلْتُ : بَلَی یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاہُ۔ (احمد ۳۴۷۔ حاکم ۱۱۰)
(٣٢٧٩٥) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت بریدہ (رض) نے ارشاد فرمایا : میں حضرت علی (رض) کے ساتھ یمن لڑنے کے لیے گیا۔ تو میں نے ان میں کچھ زیادتی دیکھی۔ جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا تو میں نے حضرت علی (رض) کا ذکر کیا اور ان کا نقص بیان کیا : اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ مقدم نہیں ہوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول 5! ضرور ۔ آپ نے فرمایا : میں جس کا دوست ہوں پس علی (رض) بھی اس کا دوست ہے۔