(۳۲۸۱۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّ عَبْدَ اللہِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ کَانَتْ تَتَحَدَّثُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَہِرَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَہُوَ إِلَی جَنْبِی ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا شَأْنُک ، فَقَالَ : لَیْتَ رَجُلاً صَالِحًا مِنْ أُمَّتِی یَحْرُسُنِی اللَّیْلَۃَ ، قَالَ : فَبَیْنَا نَحْنُ کَذَلِکَ إذْ سَمِعْت صَوْتَ السِّلاحِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ ہَذَا ، فَقَالَ : أَنَا سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ ، قَالَ : مَا جَائَ بِکَ قُلْتُ : جِئْت أَحْرُسُک یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : فَسَمِعْت غَطِیطَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی نَوْمِہِ۔
(بخاری ۲۸۸۵۔ مسلم ۴۰)
(٣٢٨١٥) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) بیان فرمایا کرتی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رات جاگے رہے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پہلو میں تھے۔ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول 5! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کاش میری امت کا کوئی نیک آدمی رات کو میری چوکیداری کرے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں۔ کہ ہم ابھی اسی درمیان ہی تھے کہ میں نے ہتھیار کی آواز سنی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کون شخص ہے ؟ آواز آئی ۔ میں سعد بن مالک ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم کیوں آئے ہو ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول 5! میں آپ کی حفاظت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں۔ پھر میں نے نیند میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خراٹوں کی آواز سنی۔