hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 32828

.

ابن أبي شيبة

32828
Ibn Abi Shaybah
(۳۲۸۲۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، قَالَ : إن أَوَّل رَجُلٍ سَلَّ سَیْفًا فِی اللہِ الزُّبَیْرُ ، نُفِخَتْ نَفْخَۃٌ : أُخِذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ الزُّبَیْرُ یَشُقُّ النَّاسَ بِسَیْفِہِ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَی مَکَّۃَ ، فَقَالَ : مَا لَکَ یَا زُبَیْرُ ، قَالَ : أُخْبِرْت أَنَّک أُخِذْت ، قَالَ : فَصَلَّی عَلَیْہِ وَدَعَا لَہُ وَلِسَیْفِہِ۔
(٣٢٨٢٩) حضرت ہشام بن عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ (رض) نے ارشاد فرمایا : بیشک سب سے پہلا آدمی جس نے اللہ کے راستہ میں تلوار سونتی وہ حضرت زبیر (رض) ہیں۔ یہ خبر اڑا دی گئی ، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑ لیا گیا ہے۔ ! پس حضرت زبیر (رض) نکلے کہ وہ لوگوں کو اپنی تلوار سے چیرتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے اونچے مقام پر تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے زبیر (رض) ! تجھے کیا ہوا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے خبر ملی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑ لیا گیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے حق میں دعائے خیر کی اور ان کی تلوار کے لیے بھی دعا فرمائی۔