(۳۲۸۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشِ لَقِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَیْسٍ ، فَقَالَ لَہَا : سَبَقْنَاکُمْ بِالْہِجْرَۃِ وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْکُمْ ، فَقَالَتْ : لاَ أَرْجِعُ حَتَّی آتِیَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَقِیت عُمَرَ فَزَعَمَ أَنَّہُ أَفْضَلُ مِنَّا وَأَنَّہُمْ سَبَقُونَا بِالْہِجْرَۃِ ، فَقَالَ : نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بَلْ أَنْتُمْ ہَاجَرْتُمْ مَرَّتَیْنِ قَالَ إسْمَاعِیلُ : فَحَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : قَالَتْ یَوْمَئِذٍ لِعُمَرَ : مَا ہُوَ کَذَلِکَ ، کُنَّا مُطَرَّدِینَ بِأَرْضِ الْبُغَضَائِ وَالْبُعَدَائِ وَأَنْتُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعِظُ جَاہِلَکُمْ وَیُطْعِمُ جَائِعَکُمْ۔
(٣٢٨٦٢) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت جعفر (رض) حبشہ سے آئے تو حضرت عمر بن خطاب (رض) حضرت اسماء بنت عمیس (رض) سے ملے اور ان سے فرمایا : ہم لوگ ہجرت میں تم سے سبقت لے گئے اور ہم تم سے افضل ہیں۔ تو وہ کہنے لگیں۔ میں واپس نہیں لوٹوں گی یہاں تک کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آؤں۔ پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر داخل ہوئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول 5! میں عمر (رض) سے ملی تو انھوں نے کہا : کہ یقیناً وہ ہم سے افضل ہیں۔ اور بیشک وہ ہم سے ہجرت میں سبقت لے گئے ہیں ! اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ تم لوگوں نے دو مرتبہ ہجرت کی۔
حضرت اسماعیل (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سعید بن ابی بردہ (رض) نے بیان فرمایا : اس دن حضرت اسمائ (رض) نے حضرت سے یوں فرمایا : ایسی بات نہیں۔ ہم لوگ تو دشمنوں اور نسب سے دور لوگوں کی زمین میں تھے ۔ اور تم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ جو تمہارے جاہلوں کو نصیحت فرما دیتے اور تم میں سے بھوکوں کو کھانا کھلا دیتے۔