(۳۲۸۷۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ أَنَّ عَلِیًّا تَزَوَّجَ أَسْمَائَ ابْنَۃَ عُمَیْسٍ فَتَفَاخَرَ ابْنَاہَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ : کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا : أَنَا أَکْرَمُ مِنْک ، وَأَبِی خَیْرٌ مِنْ أَبِیک ، فَقَالَ لَہَا عَلِیٌّ : اقْضِی بَیْنَہُمَا ، فَقَالَتْ : مَا رَأَیْت شَابًّا مِنَ الْعَرَبِ خَیْرًا مِنْ جَعْفَرٍ ، وَمَا رَأَیْت کَہْلاً کَانَ خَیْرًا مِنْ أَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ لَہَا عَلِیٌّ : مَا تَرَکْت لَنَا شَیْئًا وَلَوْ قُلْت غَیْرَ ہَذَا لَمَقَتُّک ، فَقَالَتْ : وَاللہِ إنَّ ثَلاثَۃً أَنْتَ أَخَسُّہُمْ لَخِیَارٌ۔ (ابن سعد ۲۸۵)
(٣٢٨٧١) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے حضرت اسماء بنت عمیس (رض) سے شادی کرلی، تو حضرت اسماء کے بیٹے محمد بن جعفر اور محمد بن ابی بکر آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے۔ ان ددنوں میں سے ایک نے کہا : میں تجھ سے زیادہ معزز ہوں اور میرا باپ تیرے باپ سے افضل ہے اس پر حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں ان دونوں کے درمیان فیصلہ کروں گا۔ اتنے میں حضرت اسمائ (رض) نے فرمایا : میں نے عرب کا کوئی جوان جعفر (رض) سے بہتر نہیں دیکھا۔ اور میں نے کوئی بوڑھا ابوبکر (رض) سے بہتر نہیں دیکھا۔ تو حضرت علی (رض) نے ان سے کہا : تو نے ہمارے لیے کوئی بات ہی نہیں چھوڑی۔ اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور جواب دیتی تو میں تم سے بہت سخت ناراض ہوتا۔ حضرت اسمائ (رض) نے فرمایا : اور تم ان تینوں میں سب سے کم بہتر ہو۔