(۳۲۸۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِیعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ الْعَبَّاسَ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وأنا عندہ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَغْضَبَک ، قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ : مَا لَنَا وَلِقُرَیْشٍ إذَا تَلاقَوْا تَلاقَوْا بِوُجُوہٍ مُبَشِّرَۃٍ ، وَإِذَا لَقَوْنَا لَقَوْنَا بِغَیْرِ ذَلِکَ ، قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی احْمَرَّ وَجْہُہُ وَحَتَّی اسْتَدَرَّ عَرَقٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ ، وَکَانَ إذَا غَضِبَ اسْتَدَرَّ ، فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ ، قَالَ : وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لاَ یَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الإِیمَانُ حَتَّی یُحِبَّکُمْ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، مَنْ آذَی الْعَبَّاسَ فَقَدْ آذَانِی، إنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِیہِ۔ (ترمذی ۳۷۸۵۔ احمد ۲۰۷)
(٣٢٨٧٥) حضرت عبد المطب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اس حال میں کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کس نے آپ (رض) کو غصہ دلایا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! قریش کے لوگوں کو ہم سے کیا ہوا ؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو بڑے خوشگوار چہرے سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو وہ اس طرح نہیں ہوتے ؟ راوی کہتے ہیں : یہ بات سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غصہ آگیا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور دونوں آنکھوں کے درمیان موجود رَگ پھڑکنے لگی۔ اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ ہوتے تو یہ رگ پھڑکتی تھی۔ پس جب آپ (رض) چلے گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ ایمان ہرگز داخل نہیں ہوگا کسی آدمی کے دل میں یہاں تک کہ وہ تم لوگوں سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے محبت کرے ، پھر ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جس نے حضرت عباس (رض) کو اذیت پہنچائی، تحقیق اس نے مجھے ایذا پہنچائی۔ بیشک آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے۔