(۳۲۸۹۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ أُمِّ مُوسَی ، قَالَتْ : سَمِعْت عَلِیًّا یَقُولُ : أَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنْ یَصْعَدَ شَجَرَۃً فَیَأْتِیَہُ بِشَیْئٍ مِنْہَا ، فَنَظَرَ أَصْحَابُہُ إِلَی حُمُوشَۃِ سَاقَیْہِ فَضَحِکُوا مِنْہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا یُضْحِکُکُمْ لَرِجْلُ عَبْدِاللہِ فِی الْمِیزَانِ أَثْقَلُ مِنْ أُحُدٍ۔
(احمد ۱۱۴۔ ابویعلی ۵۹۱)
(٣٢٨٩٧) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن مسعود (رض) کو حکم دیا کہ وہ درخت پر چڑھیں اور کچھ پھل لے کر آئیں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب (رض) ان کی پتلی پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم کیوں ہنستے ہو ؟ عبداللہ بن مسعود کی ایک ٹانگ ترازو میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوگی۔