(۳۲۹۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : وَفَدْت إِلَی عُمَرَ فَفَضَّلَ أَہْلَ الشَّامِ عَلَیْنَا فِی الْجَائِزَۃِ ، فَقُلْنَا لَہُ ، فَقَالَ : یَا أَہْلَ الْکُوفَۃِ أَجَزِعْتُمْ أَنْ فَضَّلْت أَہْلَ الشَّامِ عَلَیْکُمْ فِی الْجَائِزَۃِ لِبُعْدِ شُقَّتِہِمْ ، فَقَدْ آثَرْتُکُمْ بِابْنِ أُمِّ عَبْدٍ۔
(٣٢٩٠١) حضرت مالک بن حارث (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو خالد (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں وفد لے کر حضرت عمر (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے شام والوں کو انعام دینے میں ہم پر فضیلت دی، اس بارے میں ہم نے ان سے پوچھا : تو انھوں نے فرمایا : اے کوفہ والو ! کیا تم گھبراتے ہو اس بات سے کہ میں نے انعام دینے میں شام والوں کو تم پر فضیلت دی تمہاری روزی کی وجہ سے ۔ تحقیق میں نے ام عبد کے مقابلہ میں خود پر تم کو ترجیح دی ہے۔